سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت بلتستان میں تین روزہ سوگ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
مرکزی انجمن امامیہ کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سوگ کے دوران گلگت بلتستان بھر میں انجمن امامیہ کے زیر اہتمام خوشی و مسرت کی تمام تقریبات منسوخ رہیں گی جبکہ مساجد، امام بارگاہوں میں اجتماعات، دعائیہ محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ ترلائی کیخلاف گلگت بلتستان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ مرکزی انجمن امامیہ کی جانب سے افسوسناک سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سوگ کے دوران گلگت بلتستان بھر میں انجمن امامیہ کے زیر اہتمام خوشی و مسرت کی تمام تقریبات منسوخ رہیں گی جبکہ مساجد، امام بارگاہوں میں اجتماعات، دعائیہ محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ دریں اثناء سکردو اور گلگت میں کل احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تین روزہ سوگ کا اعلان انجمن امامیہ گلگت بلتستان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔