میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے پہلے سٹی کونسل کے اراکین کی گرفتاریوں کا معاملہ، اپوزیشن کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کی سٹی کونسل میں میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل اپوزیشن کے سٹی کونسل اراکین کی گرفتاریوں نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے میئر کراچی کے خلاف تحریک لانے سے پہلے سندھ حکومت اور متعلقہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے سٹی کونسل اراکین کے گھروں پر چھاپے مار کر تین اراکین کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر اراکین پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی میں بھی میئر کراچی کے انتخابات کے وقت اسی قسم کی کارروائیاں دیکھنے میں آئی تھیں، جب بلدیاتی نمائندوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور انہیں گرفتار کیا گیا، یہ سب اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ اراکین سٹی کونسل میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ لینے سے خوفزدہ ہوں۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے تین اراکین میں مبشر حافظ الحق، طارق شمسی اور ریاض اللہ شامل ہیں جبکہ مصطفی آفریدی، عتیق سواتی، سعد خان اور محمد فیضان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت غیر جمہوری طریقوں سے اراکین پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں میں نہ رہ سکیں۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ 8 فروری کو پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج کا حق ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی منافرت کی بجائے جمہوری اقدار کا احترام کرے۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے میئر کراچی مرتضی وہاب صدیقی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ گرفتار شدہ اراکین کی رہائی کو یقینی بنائیں اور اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور گرفتار شدہ اراکین کو فوری رہا کرے تاکہ کراچی کے شہریوں کے حقوق اور جمہوری عمل کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف تحریک میئر کراچی سٹی کونسل کراچی کے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔