زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
آج کل سوشل میڈیا پر گٹ ہیلتھ (آنتوں اور نظام ہاضمہ کی مجموعی صحت) ایک مقبول اصطلاح بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صبح سویرے چیا سیڈ واٹر پینا، اسمووتھیز میں سی موس جیل شامل کرنا، یا آنتوں کو شفا دینے کے لیے بون بروتھ پینا وغیرہ بہتر موڈ، زیادہ توانائی اور مجموعی صحت سے جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین سائنس کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے خاص طور پر اس لیے کہ گٹ ہیلتھ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر روزانہ نئی تحقیق سامنے آ رہی ہے۔
مزید پڑھیے: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟
اگرچہ گٹ مائیکرو بایوم ہماری صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن زیادہ تر وائرل دعوؤں کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد کے لیے گٹ کو ’ہیِل‘ کرنے کا جنون اکثر غیر ضروری ہوتا ہے۔
گٹ مائیکرو بایوم کیا ہے؟بی بی سی کی سائنس براڈکاسٹر کیرولین اسٹیل کے مطابق گٹ سے مراد پورا نظامِ ہاضمہ ہے جو منہ سے لے کر مقعد تک پھیلا ہوتا ہے۔
اس کے اندر گٹ مائیکرو بایوم موجود ہوتا ہے جو کھربوں بیکٹیریا، وائرس اور فنجائی پر مشتمل ہے اور جسم کے افعال، ذہنی و جسمانی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
مزید پڑھیں: وزن گھٹانے کے لیے مفید غذائیں کون سی ہیں؟
کیرولین اسٹیل کا کہنا ہے کہ ہر انسان کا گٹ مائیکرو بایوم فنگر پرنٹ سے بھی زیادہ منفرد ہوتا ہے۔ ایک صحت مند مائیکرو بایوم خوراک سے توانائی حاصل کرنے، بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ گٹ ہیلتھ اور ذہنی سکون کے درمیان تعلق موجود ہے جس میں کم بے چینی اور بہتر موڈ شامل ہیں۔
کیا وائرل غذائیں واقعی فائدہ دیتی ہیں؟ماہرِ جرثومیات ایلن واکر اور گٹ ہیلتھ سائنسدان ڈاکٹر میگن روسی کے مطابق زیادہ تر ٹرینڈنگ غذاؤں میں تھوڑی سی سچائی تو ہوتی ہے لیکن انہیں اکثر معجزاتی علاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
چیا سیڈ واٹرچیا سیڈز فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو فائدہ مند بیکٹیریا کو خوراک فراہم کرتے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ تاہم ایلن واکر کا کہنا ہے کہ کوئی ایک فائبر سورس کافی نہیں ہوتا کیونکہ مختلف بیکٹیریا مختلف فائبرز پر زندہ رہتے ہیں۔ ان کے مطابق چیا سیڈ واٹر نقصان دہ نہیں مگر اکیلا یہ خاص فائدہ بھی نہیں دیتا۔
زیتون کا تیل سوزش کم کرنے، دل کی صحت اور قبض میں مدد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے لیکن اسے ’شاٹ‘ کی صورت میں پینے سے گٹ مائیکرو بایوم میں اضافی فائدے کے شواہد موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق اسے کھانے میں شامل کرنا یا الگ پینا تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔
سی موس جیلسی موس جیل ایک قسم کی سمندری گھاس ہے، جس میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر روسی کے مطابق گٹ مائیکرو بایوم بہتر بنانے کے حوالے سے اس کے حق میں سائنسی شواہد بہت محدود ہیں۔
وہ خاص طور پر آنتوں کی سوزش کے مریضوں کو اس کے زیادہ استعمال سے خبردار کرتی ہیں کیونکہ اس میں بھاری دھاتیں اور آئیوڈین موجود ہو سکتے ہیں۔
بون بروتھ (ہڈیوں کا شوربا یا سوپ)بون بروتھ جانوروں کی ہڈیوں کو طویل وقت تک ابال کر تیار کیا جاتا ہے اور یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم ایلن واکر کے مطابق اس کے زیادہ تر غذائی اجزا چھوٹی آنت میں جذب ہو جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر گٹ بیکٹیریا بڑی آنت میں ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کون سی غذائیں پرسکون نیند لاسکتی ہیں؟
اس لیے اس کا براہ راست فائدہ مائیکرو بایوم کو نہیں پہنچتا۔ ڈاکٹر روسی نے خبردار کیا کہ اگر اس میں موجود سیر شدہ چکنائی نہ ہٹائی جائے تو یہ کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے۔
کمبوچاکمبوچا ایک خمیر شدہ چائے ہے اور ڈاکٹر روسی اس کی روایتی شکل کی حامی ہیں کیونکہ اس میں قدرتی تیزاب اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔ تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ ہر کمبوچا معیاری نہیں ہوتا۔ اصل کمبوچا میں قدرتی خمیر کے آثار، اضافی سرکہ کی عدم موجودگی اور مصنوعی مٹھاس نہ ہونا ضروری ہے۔
گٹ کے مسائل کی علاماتکیرولین اسٹیل کے مطابق اگر کسی کو مستقل قبض، دست، ضرورت سے زیادہ گیس یا پیٹ درد ہو تو اسے خود علاج کے بجائے طبی مشورہ لینا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو گٹ کا مسئلہ ہے تو صرف روٹی چھوڑ دینا یا سخت ڈائٹ اپنانا اس کا حل نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ زیادہ تر افراد کو سخت غذائی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر گٹ صحت مند ہو تو یہ وائرل غذائیں کوئی خاص فرق نہیں ڈالتیں۔
مزید پڑھیں: دانتوں کو صحت مند اور جراثیم سے محفوظ رکھنے والی غذائیں
ماہرین کے مطابق گٹ کو صحت مند رکھنے کے لیے سادہ اقدامات زیادہ مؤثر ہیں جیسے کہ سبزیوں، دالیں و بیج والے کھانے کھانا، فائبر کا استعمال بڑھانا اور الٹرا پروسیسڈ فوڈ کم کرنا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آنتوں اور نظام ہاضمہ کی مجموعی صحت بون بروتھ گٹ ہیلتھ ہڈیوں کا سوپ ہڈیوں کا شوربا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آنتوں اور نظام ہاضمہ کی مجموعی صحت بون بروتھ ہڈیوں کا شوربا کا کہنا ہے کہ بون بروتھ ہڈیوں کا زیادہ تر کے مطابق ہوتا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔