Express News:
2026-06-02@22:05:01 GMT

موقف اپنی جگہ تجارت اپنی جگہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

 دو ہزار چوبیس میں ترک اسرائیل تجارت کا حجم سات سے نو ارب ڈالر سالانہ تھا۔مگر فلسطینی نسل کشی کے خلاف ترکی نے نہ صرف اپریل دو ہزار چوبیس سے تجارتی تعلقات معطل کر دیے بلکہ اسرائیلی جہازوں کے لیے اپنی سمندری و فضائی حدود بھی بند کر دیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے شخص تھے جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا ، نیتن یاہو کا موازنہ ہٹلر سے کیا اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں فلسطینی نسل کشی کی بابت دائر کردہ جنوبی افریقہ کی پیٹیشن میں ساجھے دار بنے۔

ترک طرزِ عمل کے برعکس سال دو ہزار پچیس کے آخری دنوں میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے خبر جاری ہوتی ہے کہ اسرائیل اگلے پندرہ برس میں مصر کو پینتیس ارب ڈالر کی قدرتی گیس فروخت کرے گا۔امریکی انرجی کمپنی شیورون اور مصری گیس کمپنی کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ بقول نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں گیس ایکسپورٹ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔

شیورون اسرائیلی ساحل کے نزدیک تمار اور لیوتھان نیچرل گیس فیلڈز آپریٹ کرتی ہے۔یہاں سے دو ہزار انیس میں گیس کی کمرشل پیداوار شروع ہوئی اور اسرائیل کی مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد نوے فیصد گیس مصر اور اردن کو فروخت کر دی جاتی ہے۔اسرائیل مصر کو جو گیس فراہم کرتا ہے مصر اس کا ساٹھ فیصد یورپ کو ری ایکسپورٹ کرتا ہے۔
دو ہزار سولہ سے اردن اپنی ضروریات کی چالیس فیصد گیس اسرائیل سے خریدتا ہے۔یہ گیس زیادہ تر بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتی ہے۔اگر اسرائیل یہ گیس خود استعمال کرے تو یہ ذخائر اسرائیل کی چالیس سالہ ضروریات پوری کرنے کے قابل ہیں۔

انرجی سیکٹر کے موقر جریدے ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو غزہ کا انسانی بحران شروع ہونے کے باوجود مارچ دو ہزار پچیس تک مصر کو اسرائیلی گیس کی رسد جاری تھی۔پھر پانچ چھ ماہ کے لیے یہ سپلائی معطل ہو گئی۔مگر اگست میں حکومتِ اسرائیل نے گیس ذخائر کو ترقی دینے والی امریکی کمپنی شیورون کو مصر سے معاہدے کی تجدید کا اختیار دیا۔

اسرائیلی گیس کی سب سے بڑی تاریخی ڈیل کی خبر جب نیتن یاہو نے خود بریک کی تب مصر کی جانب سے یہ وضاحتی بیان جاری ہوا کہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کا باہمی معاملہ ہے۔سرکار کا اس کاروباری ڈیل سے کوئی لینا دینا نہیں۔اس ڈیل سے غزہ اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مصر کے سرکاری موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا (مصر کو اسرائیل جس لیوتھان گیس فیلڈ سے گیس سپلائی کرتا ہے اس پر لبنان کا بھی دعوی ہے )۔

مصر اور اسرائیل کی دو ہزار چوبیس میں تجارت کا حجم چار ارب ڈالر تھا۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے دو ہزار چوبیس میں تین اعشاریہ چوبیس بلین ڈالر مالیت کی تجارت کی۔اردن اور اسرائیل کی تجارت کا حجم دو ہزار پچیس میں لگ بھگ پونے چار سو ملین ڈالر رہا۔اسرائیل اردن سے مصنوعی کھاد کی صنعت کے لیے پوٹاش خریدتا ہے اور بدلے میں گیس بیچتا ہے۔وہ الگ بات کہ اردن کے دارالحکومت عمان میں شائد ہی کوئی ہفتہ ایسا جاتا ہو جب فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے جلوس نہ نکلتے ہوں۔

مراکش بھی معاہدہِ براہیمی کا حصہ ہے۔ اسرائیل نے مراکش سے دو ہزار چوبیس میں ایک سو بیالیس ملین ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائیل مصنوعات ، زرعی اجناس اور شکر خریدی جب کہ مراکش نے ایک سو پندرہ ملین ڈالر کی دفاعی ٹیکنالوجی کا سودا کیا۔تاہم مراکش میں عوام کو اہلِ غزہ کے حق میں مظاہرے کرنے کی بھی آزادی ہے۔

معاہدہِ براہیمی کے ایک اور رکن بحرین اور اسرائیل کے مابین سو ملین ڈالر سالانہ کی تجارت ہوتی ہے۔ترکی سے تعلقات میں کشیدگی کے بعد سے اسرائیلی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بحرین اور امارات آتی ہے۔کویت اور سعودی عرب و قطر کے اسرائیل سے تجارتی و سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

 امارات کو اسرائیلی کمپنیاں سیمی کنڈیکٹرز اور اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی بھی فراہم کرتی ہیں اور اماراتی کمپنیاں سونا اور زیورات ایکسپورٹ کرتی ہیں۔ دونوں ریاستوں کی فضائی کمپنیاں بھی اس منافع بخش سیکٹر سے جڑی ہوئی ہیں۔مگر یہ بھی ہے کہ امارات نے دو ہزار چوبیس میں غزہ کی انسانی و بحالی امداد کی مد میں دس کروڑ ڈالر مختص کیے۔

 اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں اٹھارہ دسمبر کو یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ معاہدہِ براہمی میں شامل ایک خلیجی ریاست نے الیکٹرونک دفاعی آلات بنانے والی سب سے بڑی اسرائیلی کمپنی ایلبیت سے نومبر میں دو اعشاریہ تین ارب ڈالر مالیت کے ایک آٹھ سالہ سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔یہ ایلبیت کی کمرشل تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ ایلبیت نے فی الحال سمجھوتے کی تفصیلات کے بارے میں باضابطہ طور پر نہیں بتایا ۔مگر اتنا اشارہ ضرور دیا ہے کہ یہ ڈیل ایک اعشاریہ تریسٹھ بلین ڈالر مالیت کی اس پانچ سالہ ڈیل کی طرح ہے جو ایلبیت نے اگست میں سربیا سے کی۔

اس سمجھوتے کے تحت سربیا کو طویل مار والا آرٹلری راکٹ نظام اور نگرانی و حملے کے خودکار نظام سے لیس فضائی سسٹم اور سراغرسانی کے الیکٹرونک آلات کا نظام بھی فراہم کیا جائے گا۔

ترکی کو چھوڑ کے اگر مصر ، اردن اور معاہدہ براہیمی کے رکن ممالک اور اسرائیل کی تجارت کو دیکھا جائے تو اس میں دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اوسطاً بیس تا چالیس فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ ترکی اور اسرائیل کے مابین اٹھاون مصنوعات کی تجارت تھم جانے سے ترکی کو ضرور مالی دھچکا لگا ہو گا تاہم اسرائیل کو اس لیے خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ اس نے ایسی متعدد مصنوعات دیگر ہمسایہ ممالک سے تجارت کے ذریعے حاصل کر لی ہیں۔ویسے بھی ترکی کا اسرائیل کی مجموعی تجارت میں حصہ پانچ فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا