وزیراعظم کی ازبک کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے ازبک کاروباری اداروں کو پاکستان کے ٹیکسٹائل، دوا سازی، کان کنی، زراعت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے۔
وزیراعظم یہ بات آج جمعہ کے روز اسلام آباد میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے ہمراہ پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر مرزیایوف کا دورۂ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں بے مثال اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دو ارب ڈالر کے تجارتی پروٹوکول پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو تجارتی بہاؤ، سرمایہ کاری کے منصوبوں، صنعتی شراکت داری اور عوامی وفود کے تبادلوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کریں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور ازبکستان کی تجارتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دس سال کی ٹیکس چھوٹ کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ازبک صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کو مہنگائی میں کمی، شرح سود کے واحد عدد پر آنے اور مضبوط معاشی بحالی کے ساتھ قابلِ ذکر اقتصادی پیش رفت پر مبارکباد دی، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے کاروباری اداروں کے درمیان پہلے سے طے شدہ مفاہمت کی یادداشتوں کے دستاویزات کے تبادلے کا بھی مشاہدہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کاروباری اداروں سرمایہ کاری ازبکستان کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔