صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو فطری اور پائیدار تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے، جن کی جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ازبکستان باہمی تجارت 404 ملین ڈالر تک جا پہنچی، 2 بلین ڈالر کا ہدف

صدر زرداری نے یہ بات جمعہ کو ایوان صدر میں جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان سے روابط، تجارت اور عوامی سطح پر تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔

صدر زرداری نے صدر مرزایوف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور مستقبل کی ترقی کی جانب پیش قدمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے ازبک صدر کو دور اندیش رہنما قرار دیا اور ان کی قیادت میں ازبکستان کو ایک جدید اور خوشحال ملک قرار دیا۔

صدر زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ تجارت، دفاع، سلامتی، ثقافت اور ورثے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ انہوں نے براہ راست فضائی روابط اور ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے اقتصادی و تجارتی تعلقات میں اضافہ خوش آئند ہے، شہباز شریف

صدر نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کی اور کہا کہ تعلقات کی حقیقی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

صدر شوکت مرزایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون اور منصوبوں کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطے کی ہدایت دی۔

دونوں صدور نے علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار ایئر فلائٹس کی تعداد بڑھانے کا اعلان

بعد ازاں ایک خصوصی تقریب میں صدر زرداری نے صدر شوکت مرزایوف کو نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔ تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے ارکان، پاک فضائیہ کے سربراہ اور دیگر معزز مہمان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ازبکستان ازبکستان کے انہوں نے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم