پاکستان ازبکستان سے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے، صدر آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو فطری اور پائیدار تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے، جن کی جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ازبکستان باہمی تجارت 404 ملین ڈالر تک جا پہنچی، 2 بلین ڈالر کا ہدف
صدر زرداری نے یہ بات جمعہ کو ایوان صدر میں جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان سے روابط، تجارت اور عوامی سطح پر تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر زرداری نے صدر مرزایوف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور مستقبل کی ترقی کی جانب پیش قدمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے ازبک صدر کو دور اندیش رہنما قرار دیا اور ان کی قیادت میں ازبکستان کو ایک جدید اور خوشحال ملک قرار دیا۔
صدر زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ تجارت، دفاع، سلامتی، ثقافت اور ورثے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ انہوں نے براہ راست فضائی روابط اور ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے اقتصادی و تجارتی تعلقات میں اضافہ خوش آئند ہے، شہباز شریف
صدر نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کی اور کہا کہ تعلقات کی حقیقی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
صدر شوکت مرزایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون اور منصوبوں کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطے کی ہدایت دی۔
دونوں صدور نے علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار ایئر فلائٹس کی تعداد بڑھانے کا اعلان
بعد ازاں ایک خصوصی تقریب میں صدر زرداری نے صدر شوکت مرزایوف کو نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔ تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے ارکان، پاک فضائیہ کے سربراہ اور دیگر معزز مہمان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ازبکستان ازبکستان کے انہوں نے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔