اسلام آباد کی مسجد میں خودکش حملہ، امریکا کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جمعے کو اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ترلائی کی مسجد میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
اپنے بیان میں نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا اس واقعے سمیت ہر قسم کی دہشتگردی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے میں اس حملے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ اور عزیزو اقارب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں۔
نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشتگردی اور انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی عوام حفاظت اور وقار کے ساتھ اور خوف کے بغیر اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے حقدار ہیں۔
ناظم الامور نے کہا کہ امریکا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور استحکام کے لیے اپنی شراکت داری پر قائم ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد امام بارہ گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد خودکش حملہ امریکا امریکا کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد خودکش حملہ امریکا کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔