اسلام آباد دھماکے کے خلاف کراچی میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-3
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) اسلام آباد کی جامع مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے اور معصوم نمازیوں کی شہادت کے خلاف کراچی میں شدید احتجاج کیا گیا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع امام بارگاہ خراسان سے نکالی جانے والی عظیم الشان احتجاجی ماتمی ریلی نمائش چورنگی پہنچ گئی، جس کے باعث شہر کا مرکزی تجارتی و ٹریفک نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ماتمی ریلی میں شرکا کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں بزرگ، نوجوان اور بچے بھی شامل تھے۔ علما کرام نے اپنے خطاب میں اس حملے کو ملک کی سالمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا۔احتجاجی مظاہرے کے باعث نمائش چورنگی سے گرو مندر جانے والی دونوں اہم شاہراہیں ہر قسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئیں۔سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ، صدر، لائنز ایریا اور گرومندر کے اطراف کی گلیوں میں گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں کا اعلان تو کیا گیا، تاہم دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے متبادل سڑکیں بھی شدید ٹریفک جام کی لپیٹ میں رہیں۔دفتروں سے گھر جانے والے شہری اور ایمبولینسیں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسی رہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاجی ریلی کے پیشِ نظر کراچی پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری ریلی کے راستوں پر تعینات رہی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے واٹر کینن اور پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی نمائش چورنگی پر موجود رہیں۔
اسلام آباد دھماکے کیخلاف کراچی میں نمائش چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ کیا جارہاہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نمائش چورنگی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔