میئرکیخلاف ممکنہ عدم اعتماد:سٹی کونسل اراکین کی گرفتاریاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ :منیر عقیل انصاری)سٹی کونسل میں میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد لانے سے قبل سندھ حکومت اور میئر کراچی بوکھلاہت کا شکارہوگئے ہیں ،بلدیہ عظمی کراچی سٹی کونسل میں جماعت اسلامی کا میئر کراچی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے قبل ہی سٹی کونسل اراکین کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین سٹی کونسل کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اب تک پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 3کارکنوں کو گرفتار کر کے انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے جبکہ دیگر اراکین سٹی کونسل میں خوف ہراس پید ا کیا جارہا ہے تاکہ اراکین سٹی کونسل میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد تحریک سے د سبردار ہوجائے، اس حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی سٹی کونسل کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ مجھے وہ وقت یاد آرہا ہے جب مئیر کراچی کو منتخب کرنے کے لیے انتخابات ہورہے تھے اس وقت بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کی گئی تھی کراچی بھر میں بلدیاتی نمائندوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے تھے انھیں گرفتار کیا جارہا تھا اور ان اراکین سٹی کونسل کو دھمکایا جارہا تھا ۔ سیف الدین الڈووکیٹ نے کہاکہ دیکھے 8فروری کو پاکستان تحریک انصاف نے احتجاج کا اعلان کیاہے اور یہ اس کا جمہوری حق ہے یہ احتجاج کامیاب ہوگایا نہیں ، ہڑتال کر پائیں گے یا نہیں یہ ان کا فیصلہ ہے اور پرامن احتجاج پی ٹی آئی کا جمہوری حق ہے لیکن اس کی آڑ میں سندھ حکومت نے چن چن کر بلدیاتی نمائندوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے ان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں میرے پاس جو فہرست آئی ہے اس کے مطابق ہمارے سٹی کونسل کے تین اراکین جس میں مبشر حافظ الحق، طارق شمسی اور ریاض اللہ ان تین اراکین کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے علاؤہ جن اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں ان میں مصطفی آفریدی، عتیق سواتی، سعدخان اور محمد فیضان شامل ہیں ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو 8فروری میں دن باقی ہے اس کی آڑ میں انہوں نے ایم پی او کے تحت جو گرفتاری کے فیصلے کیے ہیں اس کے آڑ میں سندھ حکومت ڈبل کھیل کھیلتا چاہتی ہے ایک تو اس بہانے سے ان اراکین سٹی کونسل کو گرفتار کریں اور ان تمام اراکین سٹی کونسل کو ان کے گھروں سے لاپتا کیا جائے یا غائب کیا جائے اور ان پر اتنا دباؤ میں لایا جائے کے وہ بچارے اپنے گھروں میں نہ رہنے پر مجبور ہو جائے۔ تو ظاہر ہے سندھ حکومت ماضی کی طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان تمام تر صورتحال کا ہم نے پہلے سے اندازہ لگایا ہوا تھا اور تمام صورتحال سے باخبر بھی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی صورتحال اس کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میئر کراچی خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سے قبل کتنے ہی غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرلیں مجھے امید ہے کہ اس شہر کراچی کی بہتری اسی میں ہے کے یہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو اور ہمارے شہر کے لوگوں کو ان سے چھٹکارا مل سکے انہوں نے کہا کہ دیکھے جو پی ٹی آئی کے اراکین کو گرفتار کیا جارہاہے یاحراساں کیا جارہا ہے خاص طور پر پی ٹی آئی کے سٹی کونسل کے اراکین کو میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور میں موجودہ مئیر مرتضی وباب صدیقی سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ دیکھے ان کے سٹی کونسل کے اراکین گرفتار ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہوش کے ناخن لیں جن اراکین سٹی کونسل کو گرفتار کیا ہے ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس حوالے سے مرتضی وہاب صدیقی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے گھروں پر چھاپے مارے اراکین سٹی کونسل کو انہوں نے کہا کہ سٹی کونسل کے کو گرفتار کر سندھ حکومت میئر کراچی کیا جارہا پی ٹی ا ئی اور ان ہے اور ہیں ان
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔