آئی جی سندھ کی حضرت لعل شہباز قلندر کے سالانہ عرس کے موقع پر انتہائی سخت سیکیورٹی اقدامات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے عوام اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں، تاکہ حضرت لعل شہباز قلندر کے سالانہ عرس کی تقریبات کا پرامن آغاز اور اختتام یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر حضرت لعل شہباز قلندر کے سالانہ عرس کی تقریبات کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ آئی جی سندھ نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ اضلاع کے افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر سیکیورٹی انتظامات اور پیٹرولنگ کا جائزہ لیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ، اطراف کے علاقوں، داخلی و خارجی راستوں، جلوسوں اور محافل کے مقامات پر سخت نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
آئی جی سندھ نے مزید ہدایت دی کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ، واک تھرو گیٹس اور تلاشی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی بروقت روک تھام ممکن ہو۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان تشکیل دیا جائے، جبکہ متبادل راستوں کی نشاندہی اور رہنمائی کے لیے اضافی ٹریفک اہلکار تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عرس کے دوران اور بعد از عرس زائرین کی واپسی کے راستوں پر بھی کڑی نگرانی اور سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی رسپانس، ریسکیو اور طبی سہولیات کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔