گل پلازا کے دکانداروں کو رمضان المبارک میں بلا معاوضہ 1200 اسٹالز لگا کر دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا کے دکانداروں کو ریلیف دینے کا اعلان کردیا۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق رمضان المبارک میں گل پلازا کے متاثرین کو بلا معاوضہ 1200 اسٹالز لگا کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولو گراؤنڈ میں اسٹال لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور کے ایم سی سانحۂ گل پلازا متاثرین کے ساتھ ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک تاجروں کا سیزن ہوتا ہے جس میں ان کی ہر ممکن مدد کریں گے، پیپلز پارٹی سانحۂ گل پلازا کے متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی یقین دہانیاس سے قبل آج وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ سانحۂ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، 2 سے 3 ہفتوں میں دکانداروں کو امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔
انہوں نے گل پلازا کے سانحے میں جاں بحق افراد کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازا میں جو لوگ شہید ہوئے ہیں اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے، سانحے کے شہداء کے لواحقین کو امدادی رقم کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی چیمبر نے گل پلازا کے دکانداروں کی فہرست فراہم کی ہے، جبکہ متاثرہ دکانداروں کو فی کس 5،5 لاکھ روپے کی امداد دینا شروع کر دی گئی ہے، متاثرین کے کاروباری سامان کے نقصان کا تخمینہ لگا کر ادائیگیاں کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دکانداروں کو گل پلازا کے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔