لاہور میں بسنت فیسٹیول کا آغاز، آئی جی پنجاب کا لاہور پولیس کو الرٹ رہنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بسنت فیسٹیول کے آغاز کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے لاہور پولیس کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6، 7 اور 8 فروری کے دوران بسنت کو محفوظ، خوشگوار اور قانون کے مطابق منانے کے لیے تمام ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
آئی جی پنجاب کے مطابق ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، بدتمیزی، فحاشی اور عوامی امن میں خلل ڈالنے والے تمام عوامل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایئرپورٹ، فضائی راستوں، حساس تنصیبات اور ممنوعہ علاقوں میں پتنگ بازی پر عائد پابندی بدستور نافذ العمل رہے گی اور اس پر ہر صورت عملدرآمد کرایا جائے گا۔
آئی جی پنجاب نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ تین روزہ بسنت فیسٹیول کے دوران حکومتی ضابطہ اخلاق کی مکمل نگرانی اور جانچ پڑتال کی جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔
انسپکٹر جنرل پنجاب نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، قوانین کی پابندی کریں اور پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ بسنت کا تہوار خوشگوار اور محفوظ ماحول میں منایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔