لباس کی اہمیت اور جدیدیت کے نام پر اخلاقی زوال
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلامی تعلیمات کے مطابق لباس کی بنیادی غرض جسم کو ڈھانپنا اور انسان کی عزت و وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ لباس محض جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی تہذیبی شناخت، فکری سمت اور اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں لباس نے فرد کے سماجی مرتبے، مذہبی وابستگی اور ثقافتی پس منظر کو واضح کیا ہے۔ اسلام نے لباس کے تصور کو صرف ظاہری زیبائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے حیا، وقار، اعتدال اور اخلاقی ذمے داری کے دائرے میں رکھ کر ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات کا حصہ بنا دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور تمہارے لیے زینت کا باعث ہے، اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے‘‘۔ (سورۂ الاعراف: 26) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں لباس کی حیثیت محض ظاہری پردے کی نہیں بلکہ تقویٰ، سادگی اور اخلاقی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’اللہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے لیکن تکبر کو نہیں‘‘۔ اس حدیث سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ لباس صاف، مناسب اور خوبصورت ہو سکتا ہے مگر اس کا مقصد دوسروں کو حقیر جتانا یا خود کو برتر ثابت کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام میں مرد و عورت دونوں کے لیے لباس کے واضح اصول موجود ہیں۔ مردوں کے لیے ناف سے گھٹنوں تک جسم کا ڈھانپنا لازم قرار دیا گیا ہے جبکہ عورت کے لیے پردے کا تصور زیادہ جامع ہے۔ عورت کا لباس ایسا ہونا چاہیے جو جسمانی خدوخال کو نمایاں نہ کرے اور معاشرتی حیا کے تقاضوں کو پورا کرے۔ یہ احکام کسی صنفی امتیاز پر مبنی نہیں بلکہ معاشرے میں اخلاقی توازن اور باہمی احترام کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں لباس کے معاملے میں ایک عجیب فکری انتشار پیدا ہو چکا ہے۔ خود کو مغربی چھاپ اور جدیدیت کی علامت سمجھنے والے بعض لوگ ماڈرن کہلانے کے شوق میں ایسے مختصر لباس کو ترجیح دیتے ہیں جو نہ اسلامی اقدار کے مطابق ہوتا ہے اور نہ ہی مشرقی معاشرتی حیا کے اصولوں سے ہم آہنگ۔ گھروں کے اندر شارٹس یا مختصر لباس پہن کر اس انداز سے بیٹھنا کہ پورا ستر نمایاں ہو جائے، اب گویا معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ انہی گھروں میں جوان بیٹیاں، بہنیں اور بہوئیں موجود ہوتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس بے احتیاطی کو ترقی اور آزادی کا نام دے کر ضمیر کو مطمئن کر لیا جاتا ہے۔ یہی لاپروائی صرف گھریلو ماحول تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات اللہ کے گھر تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ کچھ افراد اس قدر تنگ یا چھوٹا لباس پہن کر مسجد آتے ہیں کہ نماز کے دوران، خاص طور پر سجدے کی حالت میں، پچھلی صفوں کے نمازی اذیت اور بے چینی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ مسجد وہ مقام ہے جہاں انسان کو سب سے زیادہ حیا، وقار اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ تمام امور لباس کی زینت، اس کے آداب اور طریقۂ استعمال میں شامل ہیں، مگر ہم نے لباس کو محض سہولت اور فیشن کا مسئلہ بنا کر اس کی اخلاقی اور دینی روح کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اگر ہم نے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو یہ بے حسی آہستہ آہستہ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دے گی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام میں لباس کی اہمیت محض فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی فلسفہ ہے۔ اگر مسلمان اپنے لباس میں اسلامی تعلیمات کو اپنالیں تو نہ صرف انفرادی کردار مضبوط ہوگا بلکہ معاشرہ بھی فحاشی، بے راہ روی اور اخلاقی انتشار سے محفوظ رہ سکے گا۔ آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لباس کو فیشن کی عینک سے نہیں بلکہ ایمان، حیا اور تہذیبی شعور کے تناظر میں دیکھیں۔ یہی طرزِ فکر ہمیں ایک باوقار، متوازن اور مہذب معاشرہ عطا کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور اخلاقی نہیں بلکہ لباس کی کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔