دہلی میں خطرے کی گھنٹی،15 دن میں 800 سے زائد افراد لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-8-7
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی دارالحکومت دہلی میں لاپتا افراد کے بڑھتے واقعات نے شہری سلامتی اور ریاستی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنوری2026ء کے پہلے 15 روز میں دہلی سے 807 افراد لاپتا ہوئے، جن میں 509 خواتین شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاپتا ہونے والوں میں191 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جس کے باعث دہلی کو خواتین اور بچوں کے لیے غیر محفوظ شہر قرار دیا جا رہا ہے‘ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کا لاپتہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھی دہلی سے 24 ہزار 500 سے زاید افراد لاپتا ہوئے تھے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین شامل تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال شہری سلامتی کے نظام میں مسلسل کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔بین الاقوامی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق بھارت کو گزشتہ برسوں میں خواتین کے خلاف جرائم اور جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کے باعث شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ دہلی کو بارہا ایسے جرائم کے حوالے سے نمایاں کیا جاتا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔