اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 31فرادجاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اموات کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔ترجمان اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد 169 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنھیں اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ جمعہ کو دھماکا امام بارگاہ کے مرکزی ہال کے دروازیپر ہوا، جبکہ ابتدائی طور پر اس نوعیت کو خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دھماکے کے فوری بعد اسلام آبادکیہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔اسلام آباد کے پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کریں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی وزیر اعظم نیواقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کریں،صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اپنے بیان میں صدرِ مملکت نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا۔صدرِ مملکت نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا، زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کیا انہو ں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے،صدر زرداری نے کہاکہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے،علاو ہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں امام بارگاہ کیمرکزی ہال اور باہر احاطے میں زخمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے میں عمارت بڑی حد تک محفوظ رہی البتہ مرکزی ہال کے دروازے پر نقصان کے آثار ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ میں اسلام ا باد کے زخمیوں کو
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔