اسلام آباد دھماکہ: برطانوی و آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد: ( نیوزڈیسک) برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر نے امام بارگاہ کے باہر خود کش دھماکے کی مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے پر شدید غم و غصہ اور دلی دکھ کا اظہار کیا۔
جین میریٹ نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں شہداء، زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، اس طرح کا تشدد انتہائی قابل مذمت ہے، ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کا اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امام بارگاہ میں ہونے والے ہولناک حملے سے شدید صدمہ اور افسوس ہوا۔
ٹموتھی کین نے کہا کہ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں، مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور سوگ میں شریک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کمشنر کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔