امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل، اہم شواہد حاصل کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل، اہم شواہد حاصل کر لیے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سیکیورٹی اداروں نے مکمل کرلی۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد حاصل کرلیے۔ دھماکا کس وقت ہوا اور لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تمام معلومات رپورٹ میں شامل ہے۔
رپورٹ میں زخمیوں اور جاں بحق افراد کی تعداد بھی شامل ہے، ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دھماکا خودکش لگتا ہے۔ابتدائی تحقیقات رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی جائے گی اور وزیر داخلہ محسن نقوی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ امام بارگاہ نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں اب تک 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، چینی نائب وزیر خارجہ اسلام آباد؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی، 169 زخمی ازبکستان کا پاکستانی تاجروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان اسلام آباد؛ امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکا، 25 سے زائد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ اسلام آباد: امام بارگاہ میں دھماکہ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں یادداشت جمع، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اور ملاقاتوں کا مطالبہ میاں بیوی میں لڑائی اور بچوں کی حوالگی کا کیس؛ جسٹس محسن اختر کے اہم ریمارکسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ابتدائی تحقیقات امام بارگاہ میں خودکش دھماکے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :