اسلام آباد؛ امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکا، 30 سے زائد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ بھی ہے۔
امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ خودکش حملہ آور کی لاش ابھی بھی امام بارگاہ میں موجود ہیں۔
پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، متعدد زخمی جائے وقوع پر موجود ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ پمز اور پولی کلینک عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔
زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی 23 افراد کو پمز اور 11 کو پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان ضلع انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امام بارگاہ اسلام آباد پولی کلینک کے مطابق پمز اور
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔