اسلام آباد دھماکا، پاکستان ا سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس 4200 پوائنٹس کی کمی کے بعد 183600 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز پہلے سیشن کے وقفے سے پہلے بھی مندی کا رجحان تک تھا تاہم دوسرے سیشن میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد مارکیٹ میں حصص کی فروخت زیادہ نظر آئی جو مارکیٹ تجزیہ کاروں کے بعد دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تھی۔تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ کے پہلے سیشن میں بھی کاروبار دباؤ کا شکار تھا جس کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ تھا۔اْنھوں نے کہا کہ آج مارکیٹ میں کاروبار کا آخری روز تھا اور اب دو دن بعد کاروبارہ دوبارہ ہو گا۔اْن کے بقول ایران اور امریکا مذاکرات کے حوالے سے کسی منفی پیش رفت سے پہلے سرمایہ کار حصص کی فروخت کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط کر رہے تھے۔ تاہم اْنھوں نے کہا کہ وقفے کے بعد جب کاروبار کا آغاز ہوا تو اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت زیادہ دیکھنے میں آئی جو ’پینک سیلنگ‘ یعنی گھبراہٹ میں کی جانی والی فروخت ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ انڈیکس میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے بعد
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔