گندم بحران ، معطل فوڈ انسپکٹر دوبارہ ٹیم میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ڈی ایف سی حیدرآباد نے ماضی میں گندم بحران پیدا کرانے اور بیوپاریوں سے مبینہ بھاری رشوت لیکر گندم کی گاڑیاں چھوڑنے کی شکایت پر سیکریٹری خوراک سندھ کی جانب سے کء بار معطل ہونے والے فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی کو ٹیم میں شامل کرکے میدان میں اتار دیا ذرائع کے مطابق فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی افسران کا کماؤ پوت ہونے کی وجہ سے ہر بار اپنی تعیناتی حیدرآباد کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور دیگر ساتھی فوڈ انسپکٹرز پر محکمہ خوراک کے اعلی افسران سے ذاتی تعلقات کا رعب دکھا کر انہیں اکثر دباؤ میں رکھتا ہے فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی کے مبینہ غلط کاموں میں اس کا ساتھ نہ دینے والے فوڈ انسپکٹرز اور عملے کے لئیے مشکلات پیدا کرنے کا ماہر بتایا جاتا ہے ذرائع کے مطابق فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی ماضی میں بھی ناکے لگا اندرون سندھ سے آنے والی گندم کی گاڑیوں کو شہر سے باہر زبردستی روک کر بیوپاریوں کو بلیک میل کرکے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت وصول کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے گندم کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے شہری پریشانی میں مبتلا رہے ہیں مبینہ کرپشن میں ملوث فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی کو ڈی ایف سی حیدرآباد کی ٹیم میں شامل کرنے پر عوامی حلقوں میں تشویش پاء جاتی ہے اس ضمن میں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوڈ انسپکٹر نعمان قریشی کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے تاکہ گندم آٹا بحران پیدا کرکے ماضی کی طرح مال بٹورنے سے باز رکھا جاسکے۔واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ آٹے کے نرخ کم کرانے میں مکمل طور پر ناکام آٹا140 سے 145روپے کلو فروخت ہونے لگا،رمضان المبارک سے جہاں چینی، تیل گھی، سبزیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے وہی آٹے کے نرخ میں ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے ضلعی انتظامیہ دس کلو آٹے کی قیمت1070روپے مقرر کی تھی جس پر عمل درآمدنہ ہونے پر کاروائی کا اعلان بھی کیا تھا لیکن تاحال ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اس میں مکمل طور پر ناکام ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔