اپنے بیان میں ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل اور عبادت گاہوں پر حملے بدترین دہشت گردی ہیں جن کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کو نشانہ بنانے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل اور عبادت گاہوں پر حملے بدترین دہشت گردی ہیں جن کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی معصوم انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں ایسے بزدلانہ حملوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، مگر وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے مزید کہا کہ اس دلخراش واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے