جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس مفتی نعمان نعیم کی اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل اور عبادت گاہوں پر حملے بدترین دہشت گردی ہیں جن کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کو نشانہ بنانے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل اور عبادت گاہوں پر حملے بدترین دہشت گردی ہیں جن کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی معصوم انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں ایسے بزدلانہ حملوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، مگر وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے مزید کہا کہ اس دلخراش واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔