بلوچستان نام نہاد لاپتہ افراد کی میں دہشت گردی بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
کوئٹہ( نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان میں نام نہاد لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشتگردی، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں کو سکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائیوں سے ناکام بنا دیا گیا۔ مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمید اور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا۔ اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔ 2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔ نیول بیس حملے میں مارا جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ ناقابل تردید شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کیلئے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی معصوم بلوچ نوجوانوں کو احساس محرومی کا جعلی بیانیہ بنا کر جذباتی طور پر اپنے جال میں پھنساتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو حساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی گھناؤنے طریقے سے قوم پرستی کی بنیاد پر ریاست مخالف جذبات ابھار کر مقامی افراد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے۔ شواہد سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان دہشتگردی میں ملوث مربوط نیٹ ورک کیلئے غیر ملکی معاونت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کم عمر بلوچ بچیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز فعل میں بھی ملوث ہیں۔ یہ انکشاف بھی 29 دسمبر 2025ء کو سامنے آیا کہ معصوم بلوچ نوجوانوں کی سوشل میڈیا کے ذریعہ ذہن سازی اور بھرتی کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان معصوم نوجوانوں کی بھرتی، مقامی حمایت اور دہشتگرد کارروائیوں کو منطقی جواز دینے کا ایک مربوط نیٹ ورک ہے۔ نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان نام نہاد لاپتہ افراد فتنہ الہندوستان کے لاپتہ افراد کی کی فہرست
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔