ڈاکٹر اندریش کمار کا ہریدوار میں جشنِ امام حسین (ع) سیمینار میں اتحاد، انصاف اور انسانیت کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مولانا کوکب مصطفیٰ نے کہا کہ کربلا کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جشنِ امام حسین (ع) گولڈن جوبلی سیمینار کے دوسرا سیشن میں مرکزی مقرر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے مرکزی رکن ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ انہیں ملک اور بیرونِ ملک متعدد پلیٹ فارمز پر امام حسین (ع) اور حسینیت کے پیغام پر اظہارِ خیال کا موقع ملا ہے۔ دہلی میں منعقد ایک بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو بے گھر نہیں ہے، اردو کا گھر ہندوستان ہے اور ہمیشہ رہے گا، اگر اردو ہندوستان کی زبان نہ ہوتی تو ہندوستانی کرنسی پر اردو تحریر کبھی نظر نہ آتی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردو ہندوستان کی زبان تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اقلیت کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ اقلیت کے نام سے پہچانے جا سکتے ہیں، مگر نہ آپ غیر ملکی ہیں، نہ باہر کے، نہ کرایہ دار بلکہ آپ اس سرزمین کے اصل وارث ہیں۔
ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ یہ حسین (ع) کا ہندوستان ہے، صدیوں پہلے امام حسین (ع) کی قربانی نے اس سرزمین کو اخلاقی سمت اور شناخت عطا کی، یہی ہندوستان کی اصل روح ہے۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے کے کارگزار چیئرمین پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ امام حسین (ع) کا پیغام کسی ایک دور یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ فتح طاقت سے نہیں بلکہ حق، صبر اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یزید اقتدار پا کر بھی ہار گیا، جبکہ امام حسین (ع) قربانی دے کر ہمیشہ کے لئے سرخرو ہوگئے۔ انہوں نے سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات اور خیالات کو محفوظ کر کے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جامعہ ہمدرد یونیورسٹی نئی دہلی کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ نے کہا کہ امام حسین (ع) کی قربانی حق، انصاف اور انسانیت کی لازوال مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حق کے لئے قربان ہوتا ہے، وہ مرتا نہیں، اس کی صدا صدیوں تک گونجتی رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب انسانیت، محبت اور عدل کا درس دیتے ہیں اور ہندوستان کی اصل طاقت باہمی مکالمہ، مساوات اور احترام میں مضمر ہے۔ امام حسین (ع) محض تاریخ کی ایک تاریخ نہیں بلکہ انسانیت کی روشنی ہیں۔ امام حسین (ع) کا نام تقسیم میں نہیں بلکہ اتحاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان امن و آشتی کا گہوارہ ہے اور حسینیت کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ تمام مذاہب ساتھ ساتھ چلیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حسینی گلدستہ لے کر دنیا بھر میں یہ پیغام پہنچائیں گے کہ انسانیت سب سے بالاتر ہے۔
ڈاکٹر عمران چودھری نے کہا کہ امام حسین (ع) کا پیغام صرف تاریخ نہیں بلکہ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ قربانی کا مطلب رسم ادا کرنا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کو صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے زندہ کرنا ہوگا اور بچوں کو اچھی تعلیم اور صحیح سمت دینا ہی حقیقی قربانی ہے۔ مولانا کوکب مصطفیٰ نے کہا کہ کربلا کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ سیشن کے اختتام پر منتظم سید علی حیدر زیدی نے تمام مہمانوں، مقررین، سامعین اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ سیشن کی نظامت نجیب الہٰ آبادی نے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہ امام حسین ہندوستان کی نہیں بلکہ ہے اور
پڑھیں:
تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات شدید تحریک انصاف گلگت بلتستان انٹری نواز شریف وی نیوز