امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی، جسے بڑے پیمانے پر نسلی تعصب اور نفرت انگیز قرار دیا جا رہا ہے جس کے بعد انہوں نے اپنی ویڈیو کی خود ہی مذمت کی۔

ویڈیو میں سابق صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما کو جنگل کے مناظر میں بندروں کی شکل میں دکھایا گیا، جبکہ اختتامی حصے میں ان کے چہروں کو بندروں کے جسموں پر جوڑ کر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار

ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ویڈیو کے نسلی تعصب کے پہلو کی مذمت کرتے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ ’بالکل، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔‘ تاہم انہوں نے اس پر معذرت کرنے سے انکار کردیا۔

ٹرمپ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے صرف ویڈیو کے پہلے حصے کو دیکھا، جو 2020 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ ووٹر فراڈ کے بارے میں تھا۔ پوری ویڈیو نہیں دیکھی، بلکہ اسے اپنی ٹیم کو دے دیا۔ عام طور پر ٹیم پوری ویڈیو دیکھتی ہے، مگر شاید اس بار کسی نے نہیں دیکھی۔ جیسے ہی ہمیں اس کا علم ہوا، ہم نے ویڈیو ہٹا دی۔‘

یہ بھی پڑھیے: باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کی توہین آمیز ویڈیو شیئر کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ تنقید کی زد میں

یہ واقعہ ایک بار پھر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس پر تنقید اور نسلی حساسیت کے موضوع کو اجاگر کر گیا ہے، اور سوشل میڈیا پر اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بارک اوباما ڈونلڈ ٹرمپ ویڈیو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بارک اوباما ڈونلڈ ٹرمپ ویڈیو ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت