دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، نیپرا کا بجلی مہنگی کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت فی یونٹ بجلی 28 پیسے مہنگی کر دی گئی ہے۔
اس حوالے سے نیپرا کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ فروری کے بلوں میں وصول کیا جائے گا، جس کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہوگا۔ تاہم نیپرا نے واضح کیا ہے کہ اس اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر نہیں کیا جائے گا۔
نیپرا کے مطابق یہ اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت میں ہونے والے فرق کو ایڈجسٹ کرنا ہے۔ بجلی کی پیداواری لاگت میں اتار چڑھاؤ کے باعث صارفین پر وقتاً فوقتاً اس نوعیت کی ایڈجسٹمنٹ عائد کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں درخواست دائر کی تھی، جس میں دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم نیپرا نے جزوی اضافہ منظور کرتے ہوئے 28 پیسے فی یونٹ اضافے کی اجازت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔