ریکوڈک منصوبہ، امریکا نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر قرض دینے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے پاکستان کے اہم اور گیم چینجر ریکوڈک منصوبے کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے، جسے پاکستان کی معاشی اور معدنی ترقی کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں اہم معدنیات کی ترسیل کو محفوظ بنانے، سپلائی چین کے متبادل اور نئے ذرائع پیدا کرنے، اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس نیٹ ورکس کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں عالمی معیشت کے لیے معدنی وسائل کی محفوظ فراہمی انتہائی اہم ہے۔
اسی تناظر میں امریکا نے پاکستان کے ریکوڈک منصوبے کو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے مالی معاونت کی منظوری دی۔ حکام کے مطابق یہ قرض امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے والٹ پروجیکٹ کے تحت فراہم کیا جائے گا، جس کا مقصد اہم عالمی منصوبوں میں امریکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو یہ قرض امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک فراہم کرے گا، جو ریکوڈک منصوبے کی ترقی، معدنی پیداوار میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔