گھر میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
پولیس نے گھر میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیر ودھائی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کے ساتھ زیادتی کے مرتکب شخص کو گرفتار کرلیا۔ مدعیہ مقدمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ زیر حراست شخص کے گھر کام کاج کرتی تھی جس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔
واضح رہے کہ واقعے کا مقدمہ 4 روز قبل درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ملزم کو پیرودھائی پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے گرفتار کیا جب کہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل پراسیس بھی کروایا گیا ہے۔
ایس پی راول سعد ارشد کے مطابق زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔