ترلائی دھماکے میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے انسپکٹر بہادر علی شہید، نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پولیس افسر انسپکٹر بہادر علی اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید انسپکٹر کی نمازِ جنازہ پولیس لائن ہیڈکوارٹرز میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی سمیت سینیئر پولیس افسران، جوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
نمازِ جنازہ کے بعد پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی، جبکہ افسران و اہلکاروں نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
اس کے بعد شہید انسپکٹر بہادر علی کی جسدِ خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انسپکٹر بہادر علی کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترلائی دھماکا شہید انسپیکٹر بہادر علی گلگت بلتستان پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترلائی دھماکا گلگت بلتستان پولیس
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔