Jasarat News:
2026-06-02@23:12:48 GMT

بلوچستان کو بڑی محنت سے جنگ میں جھونکا جارہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بلوچستان کا نام آتے ہی ٹریلین آف ڈالرز کی وہ قیمتی معدنیات تصور میں آتی ہیں جو زیر زمین پائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ دہشت گرد ذہن پر حملہ کردیتے ہیں جو بقول وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پانچ سے چھے ہزار ہیں اور بقول وزیر داخلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں لیکن آٹھ دس روزانہ مارے جانے کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو برسرزمین ہیں، وفاق سے اور اس کے جھوٹوں سے خفا ہیں اور بقول وزیر دفاع خواجہ آصف ملک دشمن عناصر کے بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بیانیے سے حالت ورغلاہٹ میں ہیں، سارے فسانے میں، ان کا ذکر! ڈھونڈو تو جانیں۔
خواجہ آصف کے مطابق جبری گمشدگی کے بیانیے میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ کوئی قوم پرست تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور اسمگلروں کا گٹھ جوڑ ہے جن کی روزانہ کی چار ارب روپے منافع کی اسمگلنگ حکومت نے روک دی ہے۔ خواجہ آصف کی ہمت ہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں دس پندہ افراد کی موجودگی میں بھی ایسی دھواں دار تقریر کرلیتے ہیں لیکن ان کی چار ارب روپے روزانہ کے منافع کی اسمگلنگ کی بات بہت اہم ہے۔

چار ارب روپے روزانہ یعنی مہینے کے 120 ارب روپے اور سال کے 1440 روپے۔ ایک دن کے چار ارب روپے کے منافع میں 9 صفر آتے ہیں، سال کے منافع میں کتنے صفر آئیں گے؟ تیل کی کل مالیت اور مقدار کتنی ہوگی جو ایران سے تقریباً 40 سے 60 روپے فی لیٹر خریدا جاتا تھا اور کراچی میں 200 روپے فی لیٹر بیچا جاتا تھا۔ حالیہ کارروائیوں سے پہلے 10 سے 16 ملین لیٹرز اور حالیہ کارروائیوں کے بعد مہنگا ہونے کی صورت میں 5 سے 6 ملین لیٹر بنتا ہے۔ تصور کیجیے اتنا تیل روزانہ سرحد پار کرتا ہے اور پورے پاکستان میں تقسیم بھی ہوجاتا ہے۔ کتنا منظم نیٹ ورک ہوگا؟ ہزار ہا لیٹرز تیل منتقل کرنے میں کتنے ہزار افراد اور ٹرکس روزانہ اِدھر سے اُدھر منتقل ہوتے ہوں گے؟؟

تو پھر دہشت گردوں کا 31 جنوری کی صبح 12 مقامات پر حملہ آور ہونا کون سی بڑی بات ہے۔ 200 یا 300 دہشت گرد کیا ہزاروں دہشت گرد بھی صوبے میں داخل ہو جائیں تو حیرت کیسی؟ حکومتی رٹ ’’کہاں ہے، کیسی ہے، کدھر ہے‘‘ حکومت کی پالیسی؟ لائحہ عمل؟ اور گور ننس کی بات!! کیسے کریں اور کس سے کریں؟ اور اس پر حیرت کا کیا اظہار کریں کہ ایک ایک دہشت گرد کے پاس 40 لاکھ روپے کا اسلحہ تھا!! اسمگلنگ کی اتنی بڑی واردات معمول ہو تو پھر بات کرنے کے لیے کچھ رہ جاتا ہے؟

بھارت، اسرائیل اور افغان بھائیوں کو بی ایل اے کے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے اور رقوم مہیا کرنے کی کیا ضرورت باقی رہی ہے؟ ہم خود اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہے ہیں۔ کیا ریاست کے تعاون کے بغیر ایسا ممکن ہے؟ ایسے میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی چھے ماہ پہلے سرکاری ملازموں کودی گئی یہ چتائونی بہت معنی خیز ہو جاتی ہے کہ وہ فیصلہ کرلیں کہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ ان حالات میں، اس گٹھ جوڑ میں، گورننس کی اس حالت میں، کب تک دہشت گردوں کے ساتھ لڑا جاسکتا ہے؟

بلوچستان کی جنگ ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک طویل مدت جنگ ہے۔ دو تین دن میں دوسو دہشت گردوں کی ہلاکت صوبے کے امن وامان کی لرزتی ہوئی صورتحال کی عکاس ہے۔ 31 جنوری کی صبح سے بارہ مقامات پر ہونے والے منظم حملے!! یہ اچانک لگنے والی آگ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے آتش فشاں کا پھٹنا ہے جو مدت سے دہک رہا ہے۔ دہشت گردوں کی آخری سانسوں اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی گولی کے درمیانی وقفے میں کسی کے پاس سوچنے کی مہلت ہے کہ بچے مسلح افراد کے ساتھ سیلفیاں کیوں بنوارہے تھے؟

بلوچستان اس نظام کا نوحہ ہے جس میں کئی دہائیوں سے قومی سلامتی کا بیانیہ انسانی المیے پر حاوی ہوگیا ہے۔ اس المیے میں بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں اور اب افغان بھائی بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے کتنا فسانہ؟ کون کہاں کہاں اپنے کارڈز کھیل رہا ہے؟ قومی سلامتی کے عہدیدار یقینا اس سے واقف ہوں گے اور اس سے اچھی طرح نمٹ بھی رہے ہوں گے۔ لیکن کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک نظر گھر کے اندر بھی ڈال لینی چاہیے۔ ماہ رنگ بلوچ کس جرم میں قید میں ڈال دی گئی ہیں اور کب تک اندر رہیں گی؟ کون جواب دے گا؟ وہ بلوچ مائیں بہنیں اور بیٹیاں جو اپنے پیاروں کو تلاش کررہی ہیں ان سے کیسے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ ہمیں پہلے بڑے تحمل سے اور دردمندی سے گھرکے اندر کے مسائل نہ صرف دیکھنے ہوں گے بلکہ انہیں ٹھیک بھی کرنا ہوگا۔

بلوچستان میں زیرزمین چھپے ہوئے خزانے سب کو نظر آتے ہیں لیکن برسرزمین انتہا درجے کی غربت کسی کو نظر نہیں آتی۔ خواجہ آصف فرماتے ہیں بلوچستان میں سب سے زیادہ ائر پورٹ ہیں۔ 1596 اسکول، 12 یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 دیگر کالج، 13 کیڈٹ کالج، 21 ٹیکنیکل ادارے، 54 اسپتال، چار امراضِ قلب کے مراکز، 24 ڈائیلیسس سینٹر، 756 بنیادی صحت مراکز اور 841 ڈسپنسریاں ہیں۔ درست ہے یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن کیا ان سب اداروں سے غریبوں کو روزانہ پیٹ بھر روٹی مل سکتی ہے؟ آبادی کے بڑے حصے کو روزگار مل سکتا ہے؟ عدل وانصاف مل سکتا ہے؟ گم شدہ باپ بھائی اور بیٹے مل سکتے ہیں؟ کچھ تو خرابی ہے جو لوگ بگڑے ہوئے ہیں، غصہ میں ہیں اور برسر احتجاج ہیں۔

بلوچستان میں نصف صدی سے خود مختاری کے مطالبے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی شناخت اور نسلی تشخص کے تحفظ کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً بغاوتیں، علٰیحدگی پسند تحریکیں، قوم پرست تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں۔ صوبہ اب زیادہ غیر مستحکم ہوتا جارہا ہے، زندگی بہت زیادہ غیر محفوظ ہوچکی ہے۔ یہاں پیچیدہ طاقتیں جیو پالیٹیکل ایجنڈے کی تکمیل میں سرگرم ہیں۔ امریکا ہر اس خطے میں شورش بپا کررہا ہے جہاں قیمتی معدنیات ہیں۔ افغانستان کی دہائیوں پر پھیلی جنگ کے بعد لگتا ہے اب بلوچستان خانہ جنگی، تشدد اور انتشار کا نیا مرکز بنایا جارہا ہے۔

خبریں ہیں کہ امریکی سی آئی اے نے نئے گیم پلان ترتیب دیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور خلیج کی دوسری ریاستیں ایران دشمنی میں امریکا کے ساتھ ہیں، بلوچستان کا علاقہ حکومت پاکستان کی رٹ سے نکال کر اور سیستان میں شورش برپا کرکے، پورے خطے کو ایران پر دبائو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

اس تمام شورش کا حتمی نشانہ چین ہے۔ چین کو اس خطے میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت (سی پیک جس کا حصہ ہے) جو رسائی حاصل ہورہی ہے۔ اس رسائی کو محدود کرنا ہے۔ 2015 میں سی پیک کے حوالے سے گوادر کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی گئی تھیں کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے ماتھے کا جھومر گوادر ہے، یہاں بندرگاہ میں توسیع ہوگی، فری انڈسٹریل زون بنے گا لیکن آج عملی صورتحال یہ ہے کہ گوادر میں اُلّو بول رہے ہیں۔ پاکستان کی عظیم افواج کو بلوچستان میں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے جس میں امریکا، اسرائیل، بھارت، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ نہ جانے کون کون شامل ہے۔ بلوچستان کو بڑی محنت سے جنگ میں جھونکا جارہا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی شمولیت کے بغیر یہ جنگ جیتنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں ان کے دل جیتنا ہوں گے۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان میں چار ارب روپے خواجہ ا صف جارہا ہے رہے ہیں ہیں اور کے ساتھ اور اس ہوں گے ہے ہیں

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا