سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں 4 روز کے بعد قیمت میں بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستانی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 21 ہزار 400 روپے کی کمی سے 5 لاکھ 7 ہزار 762 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں 4 روزہ وقفے کے بعد قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 214 ڈالر کی کمی سے نئی قیمت 4 ہزار 850 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی۔ دوسری جانب پاکستانی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 21 ہزار 400 روپے کی کمی سے 5 لاکھ 7 ہزار 762 روپے کی سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 18 ہزار 347 روپے گھٹ کر 4 لاکھ 35 ہزار 324 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 1430 روپے کی کمی سے 7 ہزار 825 روپے کی سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 1226 روپے کی کمی سے 6 ہزار 708 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کی سطح پر آگئی روپے کی کمی سے سونے کی قیمت
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔