فائل فوٹو

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارتی (نیپرا) حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ملک میں 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیداوار کے سولر لگ چکا ہے۔

نیپرا اسلام آباد میں چیئرمین وسیم مختارکی سربراہی میں نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2025ء پر عوامی سماعت ہوئی، جس میں پی پی رہنما ندیم افضل چن بھی موجود تھے۔

حکومتی درخواست پر نیپرا کی بجلی کھپت پر رعایتی نرخ کی منظوری

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) حکومتی درخواست پر اضافی بجلی کی کھپت پر رعایتی نرخ کی منظور ی دے دی، فیصلہ وفاقی حکومت کو موصول ہو گیا۔

ندیم افضل چن نے تجویز دی کہ اس سماعت کو سوشل میڈیا پر بھی دکھایا جائے، جس پر نیپرا حکام نے کہا کہ فی الحال ممکن نہیں، آئندہ اس تجویز کو دیکھ لیں گے۔

حکام کے مطابق نیٹ میٹرنگ کا مقصد ریونیو جنریشن بڑھانا نہیں تھا، اب تک میں ملک میں 6 ہزار میگاواٹ سولر لگ چکے ہیں۔

نیپرا حکام نے مزید کہا کہ اب تک نیٹ میٹرنگ میں ونڈ اور سولرصارفین کو اجازت ہے، نئے ریگولیشنز میں بائیو گیس کو بھی شامل کر رہے ہیں۔

حکام نے یہ بھی کہا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں کو 5 سال تک کیا جائے گا، پرانے صارفین کے معاہدے 7 برسوں پر ہی برقرار رہیں گے۔

نیپرا حکام کے مطابق پرانے صارفین کے لیے بائی بیک نرخ برقرار رہیں گے، نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بجلی کی قیمت انرجی پرائس کے برابر کرنے کی تجویز ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نیپرا حکام نیٹ میٹرنگ صارفین کے حکام نے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان