مولانا طارق جمیل کی لاہور میں بسنت منانے کی ویڈیو وائرل، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور میں گزشتہ رات 12 بجے سے تین روزہ بسنت کا جشن سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔ شہر بھر کی چھتوں پر پتنگ بازی اور رونقیں عروج پر ہیں، جبکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بھی شہری لاہور آ کر بسنت کی تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پاکستان کی معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کی بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں اسٹار بیٹر بابراعظم اور ایک خاتون کے ہمراہ لاہور کی چھت پر بسنت کا تہوار مناتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مختاریا گل ود گئی اے ۔۔۔
مولانا طارق جمیل بھی بسنت منانے لاہور پہنچ گئے ۔۔۔ "وائرل ویڈیو" pic.
— Tahir Mughal Pmln (@Tahirmughalpml8) February 5, 2026
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ کچھ صارفین نے بسنت منانے کی شرعی حیثیت پر سوالات اٹھائے اور سوال کیا کہ کیا بسنت منانا جائز ہے؟ جبکہ دیگر نے اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تخلیق شدہ قرار دیا۔
طاہر بھائی اے آئی ہے فیک بابر اعظم تو سری لنکا میں ہیں
— Waseem Kamboh (@WaseemK74826618) February 5, 2026
صحافی عبدالقیوم صدیقی نے سوال کیا کہ اس ایڈیٹنگ میں کون سا سافٹ ویئر استعمال کیا گیا ہے؟
یہ کونسا سافٹ وئیر استعمال کیا بھائی نے
— Abdul Qayyum Siddiqui (@QayyumReports) February 5, 2026
صارفین کا کہنا تھا کہ بابراعظم اس وقت ورلڈ کپ کی تیاری میں مصروف ہیں وہ بسنت منانے لاہور کیسے آ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو پتنگ بازی کی اجازت دی ہے تاہم اس کے لیے سخت قواعد و ضوابط بھی مرتب کیے گئے ہیں تاکہ احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت لاہور لاہور میں بسنت مریم نواز مولانا طارق جمیل وزیر اعلیٰ پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور لاہور میں بسنت مریم نواز مولانا طارق جمیل وزیر اعلی پنجاب مولانا طارق جمیل
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔