پاکستان اور کینیڈا کا تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا چھٹا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا چھٹا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک نے تعلقات میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سفیر نبیل منیر، خصوصی سیکرٹری (اقوامِ متحدہ) نے کی جبکہ کینیڈین وفد کی نمائندگی سسٹنٹ ڈپٹی منسٹر (انڈو پیسفک) سفیر ویلڈن ایپ نے کی، مشاورت میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان بھی شریک تھے۔
ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کینیڈین وزیر خارجہ کے حالیہ روابط کو سراہا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط نے دوطرفہ شراکت داری کو سٹریٹجک سمت اور نئی رفتار دی ہے، دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشاورت میں موجودہ معاہدوں کے مؤثر نفاذ اور نئے تعاون کے شعبوں میں شراکت داری پر اتفاق کیا گیا، اجلاس میں تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ، کاروباری برادری کی معاونت اور تجارتی وفود کی سہولت کاری پر بھی زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت اور ایگری ٹیک، کان کنی و معدنیات، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور آئی سی ٹی میں تعاون، ہنرمند افرادی قوت، تعلیم و تحقیق اور سیاحت کے شعبوں میں شراکت داری پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو کلیدی عنصر قرار دیا گیا اور نجی شعبے میں ابھرتے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا،دونوں ممالک کے وفود نے عالمی اور علاقائی صورتحال سمیت اہم کثیرالجہتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور مشاورت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دونوں ممالک دفتر خارجہ پر اتفاق
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔