لاہور کی بسنت میں نیا تڑکا، چاہت فتح علی خان کی گلابی انٹری وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مزاحیہ انداز میں گلوکاری سے شہرت پانے والے چاہت فتح علی خان بسنت منانے کیلئے لاہور پہنچ گئے۔حکومت کی جانب سے 6 فروری سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے جس کے بعد لاہور کا آسمان آج کل رنگ برنگی پتنگوں سے سجا ہوا ہے۔بسنت کے فیسٹیول کو لاہوریے بھرپور انداز میں منا رہے ہیں ، جس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جا رہی ہیں۔ایسے میں سوشل میڈیا پر مشہور چاہت فتح علی خان بھی پیچھے نہ رہے اور بسنت منانے لاہور پہنچ گئے۔اس حوالے سے گلوکار نے اپنی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپلوڈ کی ہے جس میں انہیں پتنگوں کو اٹھا کر ڈانس کرتے دیکھا گیا ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ چاہت فتح نے بسنت کے رنگوں کی مناسبت سے تیز گلابی رنگ کا لباس بھی پہنا ہوا ہے۔گلوکار کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔