بیروت: اسرائیلی فوج کی مبینہ کیمیائی اسپرےنگ پر لبنان کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لبنان کے جنوبی سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ کیمیائی مواد چھڑکنے کے بعد لبنانی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
لبنانی وزیر ماحولیات ڈاکٹر تمارا الزین نے بتایا کہ سرحدی علاقے عیتا الشعب اور نواحی زرعی علاقوں پر مشتبہ کیمیائی مواد اسپرے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی مواد کی نوعیت جاننے کے لیے فوجی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے اور نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مواد زہریلا ثابت ہوا تو حیرت کی بات نہیں ہوگی۔
وزیر ماحولیات نے مزید کہا کہ اسرائیل نے پہلے بھی سفید فاسفورس کے ذریعے جنوبی لبنان کی تقریباً 9 ہزار ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچایا تھا۔ زرعی ماہرین کی ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے مٹی، گھاس اور درختوں کے پتوں کے نمونے جمع کیے ہیں۔ یہ نمونے بیروت اور یونانی لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے بھیجے جائیں گے، اور نتائج 48 گھنٹوں کے اندر متوقع ہیں۔
لبنانی حکام نے کہا کہ اگر کیمیائی مواد کے چھڑکاؤ کی تصدیق ہو گئی تو لبنان بین الاقوامی اداروں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیمیائی مواد
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔