لبنان کے جنوبی سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ کیمیائی مواد چھڑکنے کے بعد لبنانی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

لبنانی وزیر ماحولیات ڈاکٹر تمارا الزین نے بتایا کہ سرحدی علاقے عیتا الشعب اور نواحی زرعی علاقوں پر مشتبہ کیمیائی مواد اسپرے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی مواد کی نوعیت جاننے کے لیے فوجی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے اور نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مواد زہریلا ثابت ہوا تو حیرت کی بات نہیں ہوگی۔

وزیر ماحولیات نے مزید کہا کہ اسرائیل نے پہلے بھی سفید فاسفورس کے ذریعے جنوبی لبنان کی تقریباً 9 ہزار ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچایا تھا۔ زرعی ماہرین کی ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے مٹی، گھاس اور درختوں کے پتوں کے نمونے جمع کیے ہیں۔ یہ نمونے بیروت اور یونانی لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے بھیجے جائیں گے، اور نتائج 48 گھنٹوں کے اندر متوقع ہیں۔

لبنانی حکام نے کہا کہ اگر کیمیائی مواد کے چھڑکاؤ کی تصدیق ہو گئی تو لبنان بین الاقوامی اداروں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیمیائی مواد

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل