محکمہ زکوٰۃ کی جانب سے بیوہ کفالت کارڈ شروع کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
سٹی42: محکمہ زکوٰۃ نے بیواؤں کی مالی معاونت کے لیے بیوہ کفالت کارڈ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کفالت کارڈ اسی ماہ جاری کر دیا جائے گا، جس کے تحت مستحق بیواؤں کو زکوٰۃ فنڈ سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق بیوہ کفالت کارڈ کے ذریعے مستحق بیوہ کو ایک لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اگر بیوہ کے ساتھ ایک بچہ ہوگا تو 25 ہزار روپے اضافی جبکہ دو بچوں کی صورت میں 50 ہزار روپے اضافی امداد دی جائے گی۔
راولپنڈی: شہری کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد اور بھتہ وصول کرنے والے 4 ملزمان گرفتار
محکمہ زکوٰۃ کے مطابق اس فلاحی منصوبے کے لیے 4 ارب روپے کی رقم منظور کر لی گئی ہے، جس کا مقصد بیواؤں اور ان کے بچوں کو معاشی سہارا فراہم کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 کفالت کارڈ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔