بجلی کے بنیادی ٹیرف میں بڑی کمی کی تیاری، فکسڈ چارجز کا نیا نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز کے نظام میں نمایاں رد و بدل کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ مجوزہ پلان کے تحت ماہانہ 300، 400، 500، 600 اور 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پہلی بار 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کا امکان ہے۔ حکومت نے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں اقسام کے صارفین پر فکسڈ چارجز لاگو کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت پروٹیکٹڈ صارفین پر 100 یونٹ استعمال پر 200 روپے اور 200 یونٹ پر 300 روپے فکسڈ چارجز ہوں گے، جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے یہ رقم مختلف یونٹ سلیب کے مطابق 275 روپے سے 675 روپے تک تجویز کی گئی ہے۔ اسی طرح زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں بعض سلیبز میں کمی بھی شامل ہے۔ ٹیرف میں کمی کی تجویز کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ نرخ میں 49 پیسے سے لے کر ایک روپے 53 پیسے تک کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ کمرشل صارفین کے لیے فی یونٹ ایک روپے 15 پیسے اور صنعتی شعبے کے لیے فی یونٹ 5 روپے تک کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے، جس پر 10 فروری کو سماعت ہوگی، اور حتمی فیصلے کے بعد بجلی صارفین کو نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے فی یونٹ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کمی کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔