برآمدات کے فروغ کے لیے تجارت پر مبنی سفارت کاری ناگزیر ہے: آئی سی سی آئی صدر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
برآمدات کے فروغ کے لیے تجارت پر مبنی سفارت کاری ناگزیر ہے: آئی سی سی آئی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے فعال اور نتائج پر مبنی کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی مشنز کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ہفتہ کو یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی عالمی ماحول میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو روایتی سفارتی کاموں سے آگے بڑھ کر پاکستانی مصنوعات اور خدمات کے لیے تجارت کے فروغ، مارکیٹ تک رسائی اور کاروباری میچ میکنگ کے لیے فعال طور پر سہولت فراہم کرنا ہو گی ۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ “پاکستانی برآمد کنندگان کو بیرون ملک شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ ہمارے سفارتی مشنز بروقت مارکیٹ انٹیلی جنس، B2B رابطوں کی سہولت فراہم کرکے تجارت سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مقامی کاروباروں اور غیر ملکی منڈیوں کے درمیان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں،”
آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانوں کے تجارتی سیکشنز کے عملہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ چیمبرز اور تجارتی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھتا ہو گئی تاکہ برآمد کنندگان کو عملی اور ٹارگٹڈ سپورٹ حاصل ہو سکے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ سفارتی مشنوں اور نجی شعبے کے درمیان قریبی روابط سے برآمدی مقامات کو متنوع بنانے، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر پاکستان کے تجارتی نقش کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
سردار طاہر محمود نے مزید کہا کہ سفارتی موجودگی کو ٹھوس تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے وزارت خارجہ، وزارت تجارت اور کاروباری برادری کے درمیان پائیدار ہم آہنگی ضروری ہے۔
آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیمبر بیرون ملک پاکستانی مشنوں کو کاروباری ان پٹ، برآمد کنندگان کے فیڈ بیک اور مارکیٹ کی صورت حال فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ زیادہ تجارت پر مرکوز سفارتی نقطہ نظر برآمدات کی ترقی، روزگار کی تخلیق اور مجموعی اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے “ایکسپلور اینڈ انویسٹ” ایوارڈز 2026 منعقد نیپرا نے بجلی ایک ماہ کے لیے 28 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی بلوچستان میں پائیدار زرعی ترقی اور کسانوں کی معاشی خوشحالی کی سمت اہم پیشرفت پاک ،اردن 10ویں مشترکہ وزارتی کمیشن میں 16شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق صنعت و تحقیق کے اشتراک کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں: سردار طاہر محمود اپ کنٹری انکلو ہاوسنگ سوسائٹی میں سوئی گیس کے میٹر لگانے کی تقریب کا انعقادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔