Jasarat News:
2026-06-02@22:14:02 GMT

عمران خان کی ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی درخواست مسترد

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج اور میڈیکل چیک اپ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔

یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید امجد علی شاہ نے مختصر حکم کی صورت میں سنایا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کا مناسب اور باقاعدہ علاج جاری ہے، اس لیے ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق ملزم عمران خان کو جیل رولز کے تحت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی غفلت ثابت نہیں ہوتی۔

عدالت نے اس بنیاد پر ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ صورتحال میں جیل کے میڈیکل نظام کو ناکافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے کروایا جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں مکمل اور تسلی بخش رپورٹ حاصل ہو سکے۔

وکیل صفائی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ذاتی معالجین سے طبی معائنہ ہر شہری کا آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے اور عمران خان چونکہ سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں یہ سہولت دینا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی دورانِ حراست ذاتی معالجین کی سہولت دستیاب رہی، لہٰذا عمران خان کو اس حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

دفاع کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ جیل رول 795 کے تحت جیل انتظامیہ کسی بھی قیدی کے میڈیکل چیک اپ یا علاج کے حوالے سے اہل خانہ کو آگاہ کرنے کی پابند ہے، تاہم عمران خان کے اہل خانہ کو مکمل طبی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

فیصل ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی بلکہ صرف یہ بتایا کہ عمران خان کا علاج جاری ہے، جو قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ذاتی معالجین سے طبی کی درخواست عدالت نے تھا کہ

پڑھیں:

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرا دی گئی.

جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی جو 50 منٹ تک جاری رہی۔

ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کی صحت سے متعلق بات چیت کی۔

دریں اثنا عمران خان کی بہنوں سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی، بانی کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا بھی دیا، راولپنڈی فیکٹری ناکے پر کے پی ممبران اسمبلی اور کارکن موجود رہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان