ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا تاریخی پونچھ ہاؤس میں استقبال
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لاہور میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا تاریخی پونچھ ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر بسنت کی رنگا رنگ ثقافتی تقریب کے دوران ڈی-8 غیر رسمی ریٹریٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری جنرل ڈی-8 سہیل محمود کی سربراہی میں پاکستانی اور بین الاقوامی وفود نے شرکت کی۔ ڈی-8 مندوبین میں بنگلہ دیش، مصر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائجیریا، ترکی اور آذربائیجان کے نمائندے شامل تھے، تقریب میں صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی سمیت دیگر ملکی و غیر ملکی وفود بھی موجود تھے۔ تقریب کے دوران پنجاب کی صدیوں پر محیط ثقافتی روایات کو اجاگر کیا گیا، جہاں روایتی پتنگ بازی، لوک رنگ اور مقامی کھانوں کا خصوصی اہتمام کیا گیا، ڈی-8 مندوبین نے پنجاب کے ثقافتی حسن، مہمان نوازی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ دو روزہ قیام کے دوران وفد نے واہگہ بارڈر، شالامار باغ، مزارِ اقبال، بادشاہی مسجد، حضوری باغ اور شاہی قلعہ کا دورہ کیا، ان دوروں کے موقع پر مندوبین کو مقامات کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کے اراکین نے پنجاب کی مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، دورے کے اختتام پر مندوبین نے باہمی خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی-8 رکن ممالک کے درمیان ثقافتی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔