مسنگ پرسنز پوری دنیا کا مسئلہ، سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے، اعظم نذیرتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لاہور(آئی این پی )وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے، قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لاپتہ افراد پر بہت کام کیا، کمیشن بھی بنایا گیا، مسنگ پرسنز کیلئے ایک ریلیف بیکج متعارف کرایا۔
راولپنڈی،شہری کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد اور بھتہ وصول کرنے والے 4 ملزمان گرفتار، لوٹی گئی 11 لاکھ کی رقم بھی برآمد
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک افراد میں اکثر مسنگ پرسنزہوتے ہیں، نئی کمیٹی لاپتہ افراد کے معاملات پر مزید توجہ دے گی، سوشل میڈیا پرتوہین مذہب روکنے کے حوالے سے حکومت نے بہت کام کیا، حکومتی اقدامات کے باعث توہین مذہب کے کیسز میں کمی ہوئی، چیزوں کو مزید درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، آج موقع ہے کہ میں اپنا دفاع آپ سامنے رکھوں۔
پشاور ہائیکورٹ، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سینئر سول جج نوکری سے فارغ
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ بائیس کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17 غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے لئے بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کیلئے بھیجا، 26 ویں ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوایا تھا، اختر حسین نے سول سوسائٹی سے مشاورت کا مشورہ دیا تھا، ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سول سوسائٹی کو چیزیں بھیجیں۔
اسلام آباد خودکش حملہ، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت ،امریکا نے پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ، کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کردیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں، 1973 سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخری شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، لیکن جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک ہفتے کے دوران ملا جلا رجحان رہا
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے،جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔