مسنگ پرسن پوری دنیا کا مسئلہ، سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے: اعظم نذیرتارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسن کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے، قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لاپتہ افراد پر بہت کام کیا، کمیشن بھی بنایا گیا، مسنگ پرسنز کیلئے ایک ریلیف بیکج متعارف کرایا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک افراد میں اکثر مسنگ پرسنزہوتے ہیں، نئی کمیٹی لاپتہ افراد کے معاملات پر مزید توجہ دے گی، سوشل میڈیا پرتوہین مذہب روکنےکے حوالے سے حکومت نے بہت کام کیا، حکومتی اقدامات کےباعث توہین مذہب کے کیسز میں کمی ہوئی، چیزوں کو مزید درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، آج موقع ہے کہ میں اپنا دفاع آپ سامنے رکھوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ بائیس کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17 غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے لیے بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کےلیے بھیجا، 26 ویں ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوایا تھا، اختر حسین نے سول سوسائٹی سے مشاورت کا مشورہ دیا تھا، ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سول سوسائٹی کو چیزیں بھیجیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ، کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کردیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں، 1973 سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخری شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، لیکن جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے،جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔

موجودہ بار ایسوسی ایشنز کی قیادت کا سول سپرمیسی کیلئے کردار نظر نہیں آ رہا: رضا ربانی

سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے، وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے کوششیں کیں، وکلاء نے مشرف اور ایوب کے غیر قانونی اقدام کے خلاف بھی جہدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ جس نے بھی آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی، وکلاء نے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کی، بار ایسوسی ایشن نے کبھی سیاسی جماعتوں کو استعمال نہیں کیا، موجودہ بار ایسوسی ایشنز کی قیادت کا کردار سول سپر میسی کے لیے نظر نہیں آرہا۔

رضا ربانی نے مزید کہاکہ بیانات آتے رہتے ہیں مگر ماضی کی طرح قیادت کا دو ٹوک موقف سامنے نہیں آتا، آئین میں بہت سی غیر ضروری ترامیم کی گئی ہیں، آئینی ترمیم ججز کو ٹرانسفر اور ججز کی تعیناتی سے متعلق کی گئیں، جوڈیشل کمیشن جو بنایا گیا اس میں جوڈیشل ممبران کی تعداد کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں وفاقی وزیر قانون کا ہونا غیر ضروری ہے، میں سمجھتا ہوں اب آئین میں مزید ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، اب 28 ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے ، اگر 28 ویں آئینی ترمیم ہوگی تو آئین کا ڈھانچہ مزید متاثر ہوگا۔

کیا آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت ہوسکی ہے؟ اختر حسین

اس موقع پرسابق ممبر جوڈیشل کمیشن اور ممبر پاکستان بار کونسل اختر حسین نے کہا کہ ہم عاصمہ جہانگیر کی کانفرس میں موجود ہیں، آج جمہوریت کہاں ہیں؟ عدلیہ کہاں آزاد ہے؟ پارلیمنٹ کیا آزاد ہے؟ کیا جمہوریت ہے؟ کیا آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت ہوسکی ہے؟ جب آئینی عدالت کے جج وزیراعظم کی مرضی سے لگائیں گے تو عدلیہ کیسے آزاد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا پر دباؤ ڈالا گیا، پاکستان ایک قومی مملکت ہے، ہر شخص دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ لوگ دہشت گردی پر کیوں مجبور ہوئے؟ آپ اکنامی کو کیسے مستحکم کرسکتے ہیں ، کیا آج بنیادی حقوق کا تحفظ ہورہا ہے ، سب سے بڑا حق مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ہے۔

اختر حسین نے مزید کہاکہ ڈھائی کروڑ بچے آج سکولوں سے باہر ہیں، کیا اس حوالےسے قانون سازی ہوئی، یہاں پارلیمنٹ، حکومت،عدلیہ کمپرومائزڈ ہیں ، کہتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہر کوئی سیاست کرتا ہے۔

اختلاف کا مطلب غداری نہیں ہو سکتا: احسن بھون

ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون نے کہاہے کہ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ سچ بولنے کی قیمت چکائی، عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں ہوتا، اختلاف کا مطلب غداری نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں طلبا نے بین الاقوامی سطح پر تحریک چلائیں ان تحریکوں کے نیتجے میں گلوبل سطح پر تبدیلیاں لائیں، بین الاقوامی سطح پر غزہ کا ایشو بہت بڑا ہے، عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ انسانی حقوق کی آواز بلند کی، عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آمروں کو چیلنج کیا، پاکستان نے بلوچستان اور اسلام آباد میں دہشت گری کا سامنا کیا۔

احسن بھون نے مزید کہاکہ تاریخ ان کو یاد نہیں کرتی جو خاموش رہے تاریخ ان کو یاد کرتی ہے جو کھڑے ہوں، عاصمہ جہانگیر کو بھی تاریخ کھڑے رہنے پر یاد کرتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت اسلام آباد؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ٹی 20 ورلڈکپ: فہیم کی دھواں دھار بیٹنگ، سنسنی خیز مقابلے میں نیدرلینڈز کو پاکستان سے شکست عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی وی سے گزشتہ تین سالوں کے مالی اخراجات کی تفصیلات طلب کر لیں اسلام آباد خودکش دھماکہ کے 13 شہداء کی نماز جنازہ جی نائن امام بارگاہ میں ادا اسحاق ڈار سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات،امام بارگاہ دھماکے پر تعزیت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو ہو سکتا سکتا ہے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن