نواز شریف کو دوران قید ذاتی معالج تک کئی بار رسائی دی گئی: وکیل بانی پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک—فائل فوٹو
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ذاتی معالج کو قید کے دوران کئی بار رسائی دی گئی تھی۔
راولپنڈی میں بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی بھی ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور برابری کے سلوک کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی بھی ملک کے سابق وزیرِاعظم ہیں اس لیے ان کے ذاتی معالج کو بھی ان تک رسائی دی جائے۔
فیصل ملک کا کہنا ہے کہ آج جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت تھی، ہماری لیگل ٹیم کیس کی تیاری کر کے آئی تھی
وکیل فیصل ملک نے بتایا ہے کہ عدالت کو بتایا ڈاکٹر عاصم یوسف بانی کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ بانی کا میڈیکل چیک اپ ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں سمجھ آ رہی ایک سال میں بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کا ایشو کیوں بنا؟ اور کیاغیر معمولی حالات بنے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو رات کے وقت پمز اسپتال لے جایا گیا ؟
فیصل ملک یہ بھی کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی فیملی کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی کیا ٹریٹمنٹ ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وکیل فیصل ملک پی ٹی آئی کہا ہے کہ کہ بانی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔