بانی پی ٹی آئی کا ذاتی ڈاکٹرز سے چیک اپ کرانے کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان) انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم پاکستان اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کرانے کی درخواست خارج کر دی۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت کےجج امجدعلی شاہ نےدرخواست پرسماعت کی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل فیصل ملک نےدلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی جیل میں ذاتی معالج سے علاج کی سہولت دی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی بھی سابق وزیراعظم ہیں اور برابری کے سلوک کے مستحق ہیں۔
قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تقریب کا اہتمام، مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے،حسین محمد
وکیل فیصل ملک نے کہا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی بیماری کے علاج کا انتظام بھی نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہیں، ذاتی معالج سے چیک اپ حق ہے، قانون کے مطابق علاج سے قبل بانی کے اہلخانہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔