تھیلیسمیا کے علاج میں انقلابی پیش رفت، پاکستان میں جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا جیسے موروثی امراض کے علاج کے حوالے سے ایک بڑی اور امید افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی میں جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کرسپر کیس-9 پر تحقیق آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تحقیق کی کامیابی کی صورت میں ان بیماریوں کا علاج صرف بار بار خون کی منتقلی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مریضوں کو نارمل اور صحت مند زندگی گزارنے کا موقع مل سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اس جدید تحقیق کے ذریعے انسانی جسم میں موجود خراب جینز کو درست کیا جا سکے گا، جس کے نتیجے میں تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا جیسے امراض کی بنیادی وجہ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں اس ٹیکنالوجی پر طویل عرصے سے کام جاری ہے اور اب یہ تحقیق عملی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ماہرین بچوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اس وقت صرف ڈریپ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو پر بھی کام جاری ہے، جس میں اس جینیاتی علاج کو دوا کی شکل میں انجکشن کے ذریعے جسم میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ علاج کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے سینٹر فار ری جنریٹو میڈیسن اینڈ اسٹیم سیل ریسرچ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افسر علی میاں کے مطابق کرسپر کیس-9 ایک جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی ہے، جو مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتی ہے۔ اس کے ذریعے انسانی جینوم میں موجود جینیاتی ساخت کو ایڈٹ کیا جا سکتا ہے، یعنی کسی جین کے اندر موجود کیریکٹر اسٹک کو ڈیلیٹ یا شامل کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر افسر علی میاں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر پری کلینیکل سطح پر کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں اور اب اسے باقاعدہ طور پر ڈیولپ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاج کی دو بنیادی اپروچز ہیں، جن میں پہلی ایکس ویوو اپروچ ہے، جہاں مریض کے خون سے اسٹیم سیلز الگ کر کے ان میں جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
دوسری اپروچ کے تحت اس ٹیکنالوجی کو بطور دوا تیار کیا جا رہا ہے، جسے لائپوسوم یا ایکسوسوم کے ذریعے ڈائریکٹ انجیکٹ ایبل بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق پاکستان میں جینیاتی علاج کے میدان میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔