data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا جیسے موروثی امراض کے علاج کے حوالے سے ایک بڑی اور امید افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی میں جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کرسپر کیس-9 پر تحقیق آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تحقیق کی کامیابی کی صورت میں ان بیماریوں کا علاج صرف بار بار خون کی منتقلی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مریضوں کو نارمل اور صحت مند زندگی گزارنے کا موقع مل سکے گا۔

ماہرین کے مطابق اس جدید تحقیق کے ذریعے انسانی جسم میں موجود خراب جینز کو درست کیا جا سکے گا، جس کے نتیجے میں تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا جیسے امراض کی بنیادی وجہ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں اس ٹیکنالوجی پر طویل عرصے سے کام جاری ہے اور اب یہ تحقیق عملی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ماہرین بچوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اس وقت صرف ڈریپ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو پر بھی کام جاری ہے، جس میں اس جینیاتی علاج کو دوا کی شکل میں انجکشن کے ذریعے جسم میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ علاج کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے سینٹر فار ری جنریٹو میڈیسن اینڈ اسٹیم سیل ریسرچ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افسر علی میاں کے مطابق کرسپر کیس-9 ایک جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی ہے، جو مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتی ہے۔ اس کے ذریعے انسانی جینوم میں موجود جینیاتی ساخت کو ایڈٹ کیا جا سکتا ہے، یعنی کسی جین کے اندر موجود کیریکٹر اسٹک کو ڈیلیٹ یا شامل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر افسر علی میاں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر پری کلینیکل سطح پر کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں اور اب اسے باقاعدہ طور پر ڈیولپ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاج کی دو بنیادی اپروچز ہیں، جن میں پہلی ایکس ویوو اپروچ ہے، جہاں مریض کے خون سے اسٹیم سیلز الگ کر کے ان میں جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔

دوسری اپروچ کے تحت اس ٹیکنالوجی کو بطور دوا تیار کیا جا رہا ہے، جسے لائپوسوم یا ایکسوسوم کے ذریعے ڈائریکٹ انجیکٹ ایبل بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق پاکستان میں جینیاتی علاج کے میدان میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے کیا جا

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ