ترلائی حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہونے کا انکشاف، سرحد پار متعدد سفر بھی کیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد نمازی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ مستند معلومات کے مطابق حملہ آور نے دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں حاصل کی تھی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا تھا اور حال ہی میں افغانستان سے واپس آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایک ہلاک، 3 گرفتار
افغانستان میں قائم مختلف خوارج گروہ، جو طالبان حکومت کی سرپرستی میں سرگرم ہیں، خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشت گرد حملے کا کسی نہ کسی طور افغانستان اور بھارت سے تعلق پایا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پوری قوم ان بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ مساجد اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے گھٹیا اور بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔