اپنے بیان میں علامہ آصف حسینی نے کہا کہ اب محض پیغامات اور رسمی مذمتیں ناکافی ہیں۔ ذمہ داران دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو عبرتناک انجام تک پہنچائیں۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں قائم قومی مرکز کے بانی علامہ محمد آصف حسینی نے اسلام آباد کی خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں پیش آنے والے لرزہ خیز اور انسانیت سوز خودکش دھماکے کی شدید ترین، سخت ترین اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ اللہ کے گھر میں، حالت عبادت میں موجود سینکڑوں مومنین کو شہید اور زخمی کرنا ایک ناقابل معافی جرم، کھلی دہشتگردی اور صریح درندگی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف معصوم انسانی جانوں پر حملہ ہے بلکہ یہ اسلام، پاکستان اور معاشرتی امن کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ مسجد جیسے مقدس مقام کو خون میں نہلانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد عناصر کسی دین، مسلک یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے بلکہ یہ محض وحشی قاتل اور بیرونی و اندرونی سازشوں کے آلۂ کار ہیں۔

علامہ محمد آصف حسینی کا کہنا ہے کہ اب محض بیانات، تعزیتی پیغامات اور رسمی مذمتیں ناکافی ہیں۔ ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں، حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں، چاہے وہ منصوبہ ساز ہوں، سہولت کار ہوں یا خاموش سرپرست، کو بے نقاب کرکے عبرت ناک انجام تک پہنچائیں۔ اگر مساجد، عبادت گاہیں اور نمازی محفوظ نہیں تو یہ ریاستی ناکامی کے مترادف ہے۔ قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک بے گناہ مومنین کا خون یوں ارزاں بہتا رہے گا؟ کب تک دہشتگرد دندناتے پھریں گے اور شہداء کے لواحقین صرف صبر کی تلقین سنتے رہیں گے؟

انہوں نے کہا کہ ہم اس المناک سانحے میں شہید ہونے والے تمام مومنین کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف حقیقی، غیر جانبدار اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور قوم کو محض وعدوں کے بجائے عملی نتائج دکھائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ دے اور پاکستان کو ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ، تکفیریت اور خونریزی سے محفوظ رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار