تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے مرکزی ترجمان حسین اخونزادہ یوسفزئی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے مرکزی ترجمان نے وقافی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری کو پورا پاکستان بند ہوگا، آئین کی پائمالی پر کوئی پاکستانی خاموش نہیں رہ سکتا، آئین کی بحالی کی تحریک جاری رہے گی۔ متعلقہ فائیلیںحسین اخونزادہ یوسفزئی تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان (TTAP) کے مرکزی ترجمان اور ایک متحرک سیاسی رہنما ہیں، جنہیں اپوزیشن کی چھ بڑی جماعتوں کے اتحاد کی نمائندگی کا اہم فریضہ سونپا گیا ہے۔ جولائی 2025ء میں اس عہدے پر تقرری کے بعد سے وہ محمود خان اچکزئی، اسد قیصر اور علامہ راجہ ناصر عباس جیسے سینئر قائدین کے شانہ بشانہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور سویلین بالادستی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر اتحاد کے بیانات اور پالیسیوں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید اور ملک میں شفاف انتخابات کے مطالبے کو پرزور انداز میں پیش کرتے ہیں۔ حسین اخونزادہ اپنے بے باک سیاسی موقف اور سوشل میڈیا پر فعال موجودگی کی وجہ سے موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک ابھرتے ہوئے ترجمان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔