بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس: فوجداری درخواستیں سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواستوں پر سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے بانیٔ پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا۔
بانیٔ پی ٹی آئی کو الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ اب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران اس مقدمے سے متعلق قانونی نکات اور درخواستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سماعت کے کورٹ میں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔