مرزاپور کے معروف اداکار نے فلم انڈسٹری سے ریٹائرمنٹ کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کی کامیاب سیریز ’مرزاپور‘ کے اداکار وکرانت میسی نے کہا ہے کہ 2024 میں ریٹائرمنٹ سے متعلق ان کا بیان غلط سمجھا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وکرانت میسی جلد ہی فلم او رومیئو میں نظر آئیں گے، جس میں شاہد کپور اور ترپتی ڈمری بھی مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے جب کہ وشال بھردواج کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم 13 فروری کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔
وکرانت میسی نے اس وقت اپنے مداحوں کو حیران کر دیا تھا جب انہوں نے ایک نوٹ شیئر کیا جس میں لکھا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود کو دوبارہ سنبھالیں اور گھر لوٹیں۔
2024 میں اس پوسٹ کو پڑھ کر لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اداکار نے بطور شوہر اور والد اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اداکاری سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
تاہم، اب اداکار نے وضاحت جاری کی ہے کہ ان کی پوسٹ کو غلط سمجھا گیا انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے پہلے بار ‘پاپا’ کہنے کے لمحے سے محروم رہ گئے تھے۔
وکرت میسی کی ریٹائرمنٹ پوسٹ پر وضاحت
مزید پڑھیںبالی ووڈ کے مشہور کامیڈین اداکار گرفتار
فلم بھاگم بھاگ کے سیکوئل سے گووندا کی چھٹی، کس اداکار کو شامل کیا گیا؟
حال ہی میں بھارتی میڈیا سے گفتگو میں وکرانت میسی نے وضاحت کی کہ 2 دسمبر 2024 کو کی گئی ان کی پوسٹ کا غلط مطلب لیا گیا۔
نیشنل ایوارڈ یافتہ اداکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں محدود الفاظ میں ساری بات سمیٹنے کی کوشش کی، مگر پوری بات واضح نہ ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی باتیں غلط سمجھ لی گئیں، میں صرف ایک وقفہ لینا چاہتا تھا اور اُس وقت میں شدید برن آؤٹ کا شکار تھا۔
وکرانت میسی نے کہا کہ یہ پہلے ہی مشکل ہوتا ہے، لیکن بطور فنکار اور اداکار ہم ذہنی اور جذباتی طور پر خود کو خرچ کر رہے ہوتے ہیں، جو انسان کو تھکا دیتا ہے۔
اداکار نے مزید بتایا کہ 7 ماہ کے وقفے کے دوران انہوں نے اپنی تمام فلمیں دیکھیں، تب انہیں احساس ہوا کہ اگر وہ خود کو اگلے درجے تک لے جانا چاہتے ہیں تو انہیں بطور اداکار خود کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وکرانت میسی نے اداکار نے انہوں نے خود کو
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔